مسافر حسن
Poet: Azhar By: Mohammad Azhar Nazir, Doha Qatarسبب اس کا کچھ بھی ہو سہی لیکن
تیرے رخسار میں ایسی کچھ بات تو ہے
سرخیے گلاب ہی نہیں اس میں لیکن
رنگ شادابیے حسن اور شباب بھی ہے
روز آتے ہیں تیری دید کو مسافر حسن
آخر یہ حسن کامل اک سوغات تو ہے
کتنے آتے ہیں دیکھ چلے جاتے ہیں
یہ بتا تیرے کہیں کچھ حساب بھی ہے
نگری نگری گاؤں گاؤں ڈھونڈ پھرے
اور تو کچھ بھی نہیں اک تیری ذات تو ہے
ہم کو دنیا میں حسن ملا نا کہیں
چھانی ہر اک تحریر اور ہر کتاب بھی ہے
دمبخود ہوتے ہیں کیوں دیکھ تجھے رہ گزر
بتکدوں میں بڑا ذکر لات اور منات تو ہے
ہم نے پوچھا بہت سوں سے جواب اسکا
ایسا کیا ہے جو تیرا حسن لاجواب بھی ہے
جھیلتے کیوں ہیں لوگ صعوبت حسن و عشق
اس میں تیری شوخی کا بھی کچھ ہاتھ تو ہے
اظہر بھی دیوانوں کی قطاروں میں پھرا کرتا ہے
اس میں راحت ہے بڑی اور کچھ عذاب بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






