مسکراتی ہوئی آنکھوں میں یہ اقرار بھی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامسکراتی ہوئی آنکھوں میں یہ اقرار بھی ہے
میرے محبوب کو اب مجھ سے بہت پیار بھی ہے
میرے افکار میں زندہ ہے محبت بن کر
وہ مری سوچ ، مرا ذکر بھی افکار بھی ہے
اُس کی خوشبو سے مہکتی ہیں گلابی کلیاں
دل کے گلشن میں یہاں پیار کی مہکار بھی ہے
پاس آتا ہے تو رک جاتی ہے دل کی دھڑکن
ایک بھنورا مری سانسوں کا طلبگار بھی ہے
لگ کے سینے سے لٹا دی مجھے چاہت اس نے
مجھ پہ مرتا ہے محبت میں کہ دلداربھی ہے
دل کے شیشے میں نظر آتا ہے اس کا چہرہ
حُسن کے سامنے وہ حُسن کا شہکار بھی ہے
مال و دولت نہ ہی عہدے کی ہے حسرت وشمہ
زندگی تیرے بنا درد کا بازار بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






