مسکراتے ہو صنم
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukمسکراتے ہو صنم شب کے دریچے کھول کر
خواب بن جاتے ہو آنکھوں میں نشہ سا گھول کر
فاصلوں میں قربتوں کا اک جہاں آباد ہے
نازنین تیرے بدن کا گلستاں بھی یاد ہے
چاندنی چٹکی ہوئی تھی تیرے رخ پے اے حسیں
دلربا پہلو میں انگڑائی کا عالم یاد ہے
دل ہمارا تم نے لوٹا میٹھی باتیں بول کر
خواب بن جاتے ہو آنکھوں میں نشہ سا گھول کر
چاندنی نے مجھ سے پوچھا یہ چٹک کر پیار سے
پیار کی باتیں ہوئی ہیں کیا تیرے دلدار سے
کیا خبر تجھ کو تو اپنے حسن سے بے خبر
کس قدر ہے جل رہا یہ چاند حسنِ یار سے
یوں نہ موسم کو پکارو بھیگی زلفیں کھول کر
خواب بن جاتے ہو آنکھوں میں نشہ سا گھول کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






