مسیحا
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi ز یست کی پہنا ئیو ں میں ڈ و بے فر زا نے کئی
ڈو ب کر اُ بھر ے جو اُ ن سے و ہ ہیں د یو ا نے کئی
یو ں تو د نیا ہو ئی ہیں ا س کی تفسیر یں کئی
عشق کا عنو ا ں ہے ا ک ا و ر ا س کے ا فسا نے کئی
منز لین ر ا ہ و فا میں کر لیں جب خو د ہم نے طے
آ ن پہنچے پھر ہمیں ا حسا ن جتلا نے کئی
ا ک مسیحا نے کیا بیما ر جسمو ں کا علاج
کر د یئے بیما ر د ل میرے مسیحا نے کئی
کو ئی تو بتلا ئے مجھ کو کو ن تھا وُہ ا یک شخص
د ے گیا جو د ل کو میر ے د رد ا نجا نے کئی
کیا ملے گا تم کو وا عظ ہم کو سمجھا نے چلے
تم سے پہلے بھی چلے تھے ہم کو سمجھا نے کئی
چا ند بھی منز ل نہیں ہے میں فلک کا ہو ں مکیں
فا صلے طے کر نے ہیں میر ے کف پا نے کئی
تلخیا ں پو شید ہ ا س میں لز تیں بھی بے شما ر
ا ک سبو ئے زیست کے د یکھے ہیں پیما نے کئی
ظلمتو ں میں سا تھ د ے جو ہے حقیقی ہم سفر
یو ں تو آ جا تے ہیں رو شن ر ا ہ د کھلا نے کئی
مطلبو ں کی آ ڑ میں طا ہر جو یا را نے ہو ئے
ٹو ٹتے د یکھے و ہ پل بھر یا را نے کئی
جب سے طا ہر چشم سا قی کی نوا ز ش عا م ہے
ہو گئے ہیں تب سے ہی ویر ا ن میخا نے کئی
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






