مشورہ
Poet: Nadeem Gullani By: Silsilla, lahoreمیری جاں میرے لیئے
خوُد کو پریشاں مت کرو
بکھرے بال، پھیکی رنگت
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے
یہ سگرٹیں، یہ کتابیں
یہ قلم، یہ کاغذ
یہ رتجگے، یہ آہیں
یہ سسکتی سُلگتی ہوئی زندگی
اب میرا مُقدر ہیں
کہ چار دن کی زندگی سے
دو دن تو جی چُکا ہوں اور
دو دن بھی یوں ہی جی لُوں گا
تم خوُد کو دیکھو
اب بھی ہزاروں آنکھیں
تمہاری اک دید کو ترستی ہیں
کہ زندگی اب بھی خوبصورت ہے
کہ نظارے اب بھی تمہیں ڈھونڈتے ہیں
جاؤ جا کر
اپنی آنکھوں میں کاجل ڈالو
بالوں میں گجرا، پیروں میں پائل
اور ہاتھوں میں کنگن پہنوں
ہاں مانا سیاہ لباس
تم پہ بہت جچتا ہے ، مگر
اب لباس پر
سات رنگوں کی کلیاں بُن لو
کہ زندگی اب بھی خوبصورت ہے
کہ نظارے اب تمہیں ڈھونڈتے ہیں
میری مانو
میری جاں میرے لیئے
خوُد کو پریشاں مت کرو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






