مشکل ہے
Poet: By: Sahib, Multanکسی اپنے کی یادوں کو بھلانا یوں بھی مشکل ہے
کسی کو دل سے مٹا دینا سنو جاں یوں بھی مشکل ہے
بہت کم ملتے ہیں سچی چاہت والے
کسی کے پیار میں مٹنا سنو جاں یوں بھی مشکل ہے
کبھی ایسا نہیں ہوتا مٹا دیں دوریاں سب ہی
کہ قسمت سے لڑ کر جیتنا یوں بھی مشکل ہے
اک بار جو مٹ جائیں ہاتھوں کی لکیروں سے
انہیں واپس بلا لینا سنو جاں یون بھی مشکل ہے
لاکھ سچے وعدے کر لیں ھم لوگوں سے
مگر وعدے وفا کرنا سنو جاں یوں بھی مشکل ہے
کسی کے دل میں گھر کرنا ، اسے اپنا بنا لینا
سنو جاں یوں بھی مشکل ہے، سنو جاں یوں بھی مشکل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






