معنیِ پیار
Poet: نعمان اعجاز - Numan Ijaz By: Numan Ijaz, Lahoreبیٹھنے جو لگا اِک محفل میں یہ گناہگار
کہنے لگے یہاں بیٹھے ہیں اہلِ عِلم جناب
میں نے بھی پوچھ لیا اِک عاجزانہ سوال
بتائیں کیا ہیں معنیِ پیار
اِک بولا اب تو یہ ہے گناہ کا کام
اِک بولا اسے کہلو دیوانہ انداز
پھر خاموشی تھی سب کے لبوں پر سراپا احتجاج
تو اِک بولا بیٹھے تو اب آپ بھی ہیں یہاں
دے کر جواب کر دیں حقِ محفل ادا
میں اُٹھ دیا اس محفل سے دے کر یہ جواب
”کٹا کر سرجہاں رکھ لی جائے نانا کی لاج“
تب سے بیٹھے ہیں وہاں سب ہی شرمسار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






