مقابر کو ہم آباد نہیں کرتے ہیں
Poet: Tanzila Yousaf By: Tanzila Yousaf, Lahoreمقابر کو ہم آباد نہیں کرتے ہیں
راہ سے جو پلٹ جائیں ان کو یاد نہیں کرتے ہیں
میں ہوں اور یہ سرما کی تاریکی میں ترا خیال
بے آب وگیاہ وادیاں ویران نہیں کرتے ہیں
تیرا خیال بھی اب تو سکوں نہیں دیتا
تنہائیاں، خاموشیاں برباد نہیں کرتے ہیں
میں غم سے آشنا کیوں کر، اس کا غم نہیں
سکوں کے پل بے مزہ نہیں کرتے ہیں
کوئی تو ہو جو کہ دے حرف ناصح چپکے سے
بے مائیگیء وجود سے خود کو بہلایا نہیں کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






