ملاقات ہو نہ ہو
Poet: Rizwana aziz By: Rizwana aziz, Karachiملاقاتوں کا سلسلہ تو رہا ہی نہیں
روبرو گفتگو کا تو معاملہ ہی نہیں
آنکھ اٹھتی تو آپ جھک جاتی تھی
محسوس قربتوں کو کبھی کیا ہی نہیں
شرط اول ہے پاکیزگی محبّت میں
نام لبوں سے کبھی انکے ادا ہوا ہی نہیں
جو بغلگیر ہوۓ پھرتے ہیں یوں جابجا
سچ کہتی ہوں وہ محبّت سے آشنا ہی نہیں
ملاقات کے نام پر جو ہوس پرستی ہے
پامال تقدس ہے کچھ اس کے سوا بھی نہیں
تہذیب و اقدار سے جو اپنی خوب واقف ہو
انتشار جذبات کا شکار کبھی ہوا ہی نہیں
طوفانوں سی محبّت سب بہا لے جاتیں ہیں
پھر بعد طغیانی پاس کچھ بچتا ہی نہیں
دلوں کا رابطہ دعاؤں سے سدا استوار رہتا ہے
ملاقات ہو نہ ہو فرق کوئی پڑتا ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






