ملے زخم پے اگر زخم بھی ، ہاتھ چھوڑوں نہ کبھی یار کا
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaیہ رنج و الم انعام ہیں ، میرے عشق کا میرے پیار کا
ملے زخم پے اگر زخم بھی ، ہاتھ چھوڑوں نہ کبھی یار کا
آئے دوریاں ، مجبوریاں آئے بے بسی کے چاہے قافلے
میری زندگی کا ہر راستہ ، لاکھ عذابوں سے چاہے جا ملے
گُلِ عشق نہ مڑجھانے دُوں ، سہوں ہر ستم ہر خاڑ کا
ملے زخم پے اگر زخم بھی ، ہاتھ چھوڑوں نہ کبھی یار کا
کیسے کہہ دیا یہ آپ نے ، چلے جاؤ تُم مجھے چھوڑ دو
شک کر کے میری وفاؤں پے ، کہا کیوں ہر ناطع توڑ دو
کیسے جیوؤنگی میں سوچا ہے یہ ، نشہ مجھے ہے ترے دیدار کا
ملے زخم پے اگر زخم بھی ، ہاتھ چھوڑوں نہ کبھی یار کا
نہالؔ جی میں انسان ہوں ، مانا کہ میں ڈر سکتی ہوں
مگر تری محبت کے واسطے ، جی سکتی ہوں مر سکتی ہوں
میرا نصیب ملے خوشی یا غم ، دھاگہ توڑوں نہ میں اعتبار کا
ملے زخم پے اگر زخم بھی ، ہاتھ چھوڑوں نہ کبھی یار کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






