مل جل کے آئیے
Poet: Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi By: Dr.Ahmad Ali Barqi Azmi , New Delhiمل جل کے آئیے ہم سائنس ڈے منائیں
کیا اہمیت ہے اسکی ہر شخص کو بتائیں
بیدارمغز جو ہیں سائنس پڑھ رہے ہیں
ہم بھی نہ بڑھ کے اس میں کیوں بخت آزمائیں
مکتب ہو،مدرسہ ہو،یا ہو وہ کوئی کالج
ہے ہرجگہ ضروری سائنس کو پڑھائیں
اپنا رہے ہیں جو بھی سائنس و ٹیکنالوجی
اہل جہاں کی ان پر ہروقت ہیں نگاہیں
ہے ملک کی ترقی سائنس میں ہی مضمر
سائنس کا ترانہ سب لوگ مل کے گائیں
ہے راز اس میں مضمر ملت کی بہتری کا
گھر گھر میں آئیے ہم اس شمع کو جلائیں
سائنس و ٹیکنالوجی ہے وقت کی ضرورت
ہم کیوں نہ اس سے آخر اب فائدہ اٹھائیں
پرواز کررہے ہیں سٹ لائٹ آسماں پر
دنیا کی سیر پر ہم گھر بیٹھے کیوں نہ جائیں
سائنس کر رہی ہے نوع بشر کی خدمت
ہیں دسترس میں اس سے اب زود اثر دوائیں
ڈی این اے ٹسٹ ہو یا موسم کی پیشگوئی
سائنس نے ہیں کھولی ہم پر جدید راہیں
سائنس اگر نہ ہوتی ہوتا نہیں یہ ممکن
بجلی بنا رہی ہیں اب ایٹمی شعائیں
ہیں مثبت اور منفی دونوں ہی اس کے پہلو
مثبت کو یاد رکھیں منفی کو بھول جائیں
سائنسداں ہیں بیشک نوع بشر کے محسن
سارے جہاں کی ان پر مرکوز ہیں نگاہیں
ہیں ملک کی امانت سائنسداں ہمارے
ہم صدق دل سے ان کو اب کیوں نہ دیں دعائیں
عقل سلیم دے اب ان کو خدائے مطلق
تخریبی کاوشوں سے تاکہ وہ باز آئیں
ای میل و آئی ٹی کا ہے آج کل زمانہ
کیوں نامہ بر کا احساں احمد علی اٹھائیں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






