منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب میری
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanمنتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
دیکھتا ہوں میں ہر اک لمحہ یہاں راہ تری
میرے ویرانے میں آجا تو بہاروں کو لیے
اپنے معصوم سے چہرے کے نظاروں کو لیے
پیار سے تھام لے آکر مرے ہاتھوں کو ذرا
موتیے اور گلابوں بھرے ہاروں کو لیے
کس قدر پیاسی ہے تیرے لیے یہ روح مری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
یاد ہے آج بھی وہ شام وہ ویران شجر
جس کے نیچے تو کھڑی سوچ رہی تھی بے خبر
بنسری کوئی بجاتا تھا کہیں دور بہت
اس کی تانوں کا ترے دل پہ ہوا کتنا اثر
اور کچھ سوچ کے چپکے سے پھر اک آہ بھری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
بالیاں کانوں میں پہنے تو چلی آتی ہے
میرے خوابوں میں ، تصور میں مسکراتی ہے
چوڑیاں تیری کھنکتی ہیں خیالوں میں مرے
اور گھونگٹ سے مجھے دیکھ کے شرماتی ہے
تیری ہر سانس ہے پھولوں کی طرح خوشبو بھری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
دور رہتی ہے ترے پاس میں آ سکتا نہیں
سوچتا ہوں کہ تجھے پا کے بھی پا سکتا نہیں
خود سے کہتا ہوں تجھے بھول ہی جاؤں لیکن
میری محبوب ! تجھے دل سے بھلا سکتا نہیں
کاش ہوتی نہ مجھے ایسی کوئی مجبوری
منتظر بیٹھا ہوں تیرے لیے محبوب مری
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






