منزل کے کھوج میں اکثر
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadمنزل کے کھوج میں اکثر راہیں بدلتی رہیں
بھٹکے ہوئے مسافروں کی نوائیں بدلتی رہیں
رشتے کے باوجود مجھے لا تعلق ٹھرایا گیا
وقت کے ساتھ ساتھ میری سزائیں بدلتی رہیں
طلب کے ساتھ وفا کا مفہوم بدل دیا گیا
اس دور میں محبت کی اصطلاحیں بدلتی رہیں
کبھی پھولوں سے سج گئے کبھی پتے بھی چھٹ گئے
موسم کے ساتھ پیڑوں کی ردائیں بدلتی رہیں
عمر کے ساتھ ساتھ سوچ بھی پختہ ہوتی گئی
عثمان فیصلے بدلتے رہے، انائیں بدلتی رہیں
ہر قدم پہ مجھ کو مشکلات کا سامنا رہا
مجبوریوں کے تحت میری دعائیں بدلتی رہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







