منزِل
Poet: UA By: UA, Lahore ہم نے چاہا، تمہیں چاہا
خود سے بڑھ کر بہت چاہا
لیکن تمہیں اپنا نہ سکے
تمہیں اپنا بنا نہ سکے
تمہیں مانگا، تم سے مانا
جی جان سے مانگا، بہت مانگا
چاہت کی منزِل پا نہ سکے
تمہیں اپنا بنا نہ سکے
، ہم تھک گئے، ہم ہار گئے
ہمارے سب جتن بیکار گئے
خود سے تکرار کر کے
تم سے سوال کر کے
نہ قسمت بدلی، نہ تم بدلے
نہ جِیون بدلا، نہ ہم ہی بدلے
اب لیکن ہم بدل جائیں گے
اپنے لئے ، تمہارے لئے
دستِ طلب اٹھائیں گے
سجدے میں گڑگڑا کر ہم
اپنی چاہت پا جائیں گے
پھر تم ہمیں مِلو نہ مِلو
ہم راحت پا جائیں گے
تمہارا ساتھ مِلے نہ مِلے
ہم اپنی منزِل پا جائیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






