من کو دُوں پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaوہ بھلے سِتمگر ہوں، تلخ کیوں رکُھوں لہجہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سوچنا بھی ایسا کیا، توبہ ہے مِری توبہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سِلسِلے عقِیدت کے، کم کبھی نہِیں ہوں گے، چاہے آزماؤ بھی
پیار فاختاؤں پر کِس لِیئے رکُھوں پہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
زخم جو بھی بخشیں گے اُن میں پُھول بانٹُوں گا یہ مِرا اِرادہ ہے
اور یاروں کے آگے میں کرُوں کوئی قِصّہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
بات ہے سرِشتوں کی، شوق ہے بہُت لیکن، میں کروں ادا کاری؟
رول بھی بہُت اچھّا، چہرے پر مگر چہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
عُمر تو گُناہوں کے بِیچ میں گُزاری ہے، پارسائی کیا مطلب؟
چاہ کر بھی یارو اب کوئی بھی عمل اچّھا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
اب سِسکتے لوگوں کا درد بانٹا ہو گا وقت کا تقاضہ ہے
دروغ کی مِلاوٹ سے دِل کا جُھوٹا بِہلاوا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
جاگتے میں کاٹی رات واہِموں کی یلغاریں دل پہ راج رکھتی تھیں
من کو دُوں رشِید پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






