من کو دُوں پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید, Quettaوہ بھلے سِتمگر ہوں، تلخ کیوں رکُھوں لہجہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سوچنا بھی ایسا کیا، توبہ ہے مِری توبہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
سِلسِلے عقِیدت کے، کم کبھی نہِیں ہوں گے، چاہے آزماؤ بھی
پیار فاختاؤں پر کِس لِیئے رکُھوں پہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
زخم جو بھی بخشیں گے اُن میں پُھول بانٹُوں گا یہ مِرا اِرادہ ہے
اور یاروں کے آگے میں کرُوں کوئی قِصّہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
بات ہے سرِشتوں کی، شوق ہے بہُت لیکن، میں کروں ادا کاری؟
رول بھی بہُت اچھّا، چہرے پر مگر چہرہ، مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
عُمر تو گُناہوں کے بِیچ میں گُزاری ہے، پارسائی کیا مطلب؟
چاہ کر بھی یارو اب کوئی بھی عمل اچّھا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
اب سِسکتے لوگوں کا درد بانٹا ہو گا وقت کا تقاضہ ہے
دروغ کی مِلاوٹ سے دِل کا جُھوٹا بِہلاوا مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
جاگتے میں کاٹی رات واہِموں کی یلغاریں دل پہ راج رکھتی تھیں
من کو دُوں رشِید پِھر سُکون کا دھوکہ مُجھ سے تو نہِیں ہو گا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






