موتی بن کر لفظ کا غذ پر بکھر جاتے ھیں
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, Karachiموتی بن کر لفظ کا غذ پر بکھر جاتے ھیں
دکھ سارے میرے آنسوؤں بن کر بہہ جاتے ھیں
کیوں لمحوں میں اپنے بیگانے بن جاتے ھیں
آنکھوں میں اشک تھم سے جاتے ھیں
کہنےکوکہہ دیتےھےسب اپنےاپنےنصیب ھےمگر
دعاؤں سے بگڑے ھوۓ سنور جاتے ھیں
باغیچہ میں بیٹھی سوچ رہی ہو ں میں
کیوں پت جھڑکے موسم میں درخت اجڑجاتے ھیں
کرنا چاہتے ہم سب کے ساتھ بھلا مگر
آخر میں ہم ہی برے بن جاتے ھیں
ہم تو عشق بھی اس انداز سے کرتے ھے انمول
اپنےپچھے اک لازوال داستان چھوڑ جا تے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







