مومن کی خاص دعا
Poet: Abdur Rehman Khan Mani مانیٓ By: Abdur Rehman , Karachiمانگا تھا اسے رورو کر خدا سے ایسے
گویا کسی مومن کی خاص دعا ہو جیسے
پانسہ قسمت کا میرے حق میں نہیں پڑتا
ماند محبوب وہ ہم سے خفا ہو جیسے
نہ ہو پاس تو چین نہیں ِاس دل مضطر کو
گویا وہ ! میرے درد کی دوا ہو جیسے
دہراتا ہی رہتا ہوں ذکرِ یار کو بات بے بات
وہ کسی سائل کی صدا ہو جیسے
نیند نہیں آتی رویا نہ کروں جب تلک
میرے اشک ترے خوابوں کی غذا ہو جیسے
سوی نہیں آنکھ بھی شب بھر انتظار یار میں
کسی مظلوم کو بے جرم سزا ہو جیسے
وہ نہ بولے میرے سرہانے تو صبح نہیں ہوتی
وہ میرے آنگن میں بلبل کی نوا ہو جیسے
آئے ان شوخ گلابوں پر خزاں کیونکر مانیٓ
وہ میرے گلشن کی بادِ صبا ہو جیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






