مِرے خواب ، مِرے خواب
Poet: Akram Sohail By: Akram Sohail, Muzaffarabadہم دیکھیں گے اِک اور زمانے کے نئے خواب
جو خواب تھے قائدؒ کے اور اقبالؒ کے وہ خواب
وہ خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب
یہ ظلمتِ شب تیرا مقدر تو نہیں
جو خواب ہیں تیرے وہ ہے تقدیر تمہاری
یہ خواب نہ کھونا کہ وہ منزل کے نشاں ہیں
تقدیر کو بدلو یہ ہے فرمانِ الٰہی
تاریک شبوں میں بھی اجالوں کے نئے خواب
جو خواب تھے قائدؒ کے اور اقبالؒ کے وہ خواب
وہ خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب
یہ ہاری ، یہ کسان ، یہ مزدور ہمارے
پلتے ہیں کیوں اِن کی محنت پہ لٹیرے
یہ دیس ہے گر سب کا تو یہ محروم رہیں کیوں
خاموش ہوں لب ، سہمے ہوئے اور ڈریں کیوں
اب دیکھیں گے اِک اور زمانے کے نئے خواب
جو خواب تھے قائدؒ کے اور اقبالؒ کے وہ خواب
وہ خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب
کیوں بچوں کے ہاتھوں میں نہیں کوئی کتابیں
روٹی کے نوالوں کے لئے روز یہ ترسیں
کیوں اِن کا وطن پر کوئی حق بھی نہیں ہے
کیوں اِن کے خیالوں میں کوئی خواب نہیں ہے
اب اِن کو اُٹھاؤ کہ یہ دیکھیں بھی کوئی خواب
جو خواب تھے قائدؒ کے اور اقبالؒ کے وہ خواب
وہ خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب
تاریک ہیں راہیں مگر پُرعزم رہو تم
منزل کے نشاں سامنے اُن تک چلو تم
اِک بار اُٹھاؤ گے بغاوت کے جو پرچم
یہ عزم جہاں بار ، شجاعت کے یہ پرچم
پھر چھین سکے گا نہ کوئی بھی وہ ترے خواب
جو خواب تھے قائدؒ کے اور اقبالؒ کے وہ خواب
وہ خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب
اب اُٹھ کے ملاؤ میری آواز میں آواز
زنجیروں کو توڑو کہ یہ خلق ہو آزاد
لب کھولو کہ اِس دیس میں رائج بھی عدل ہو
اِک حشر اُٹھا دو کہ زمانے کو خبر ہو
اِس دیس کا پرچم ترے ہاتھوں میں رہے گا
یہ دیس تمہارا ہے ، تمہارا ہی رہے گا
اب کوئی لٹیرا بھی نہ اب اس میں رہے گا
یہ خواب ہیں ہم سب کے ، مرے دیس کے سب خواب
جو خواب تھے قائدؒ کے اور اقبالؒ کے وہ خواب
وہ خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب ، مِرے خواب
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






