مِیت من کو بھا جائے، رُوپ وہ سجا لیں گے
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرت ؔ, Quettaمِیت من کو بھا جائے، رُوپ وہ سجا لیں گے
پیار ہولی کھیلیں گے، رنگ ہم اُچھالیں گے
جِتنی دُور جا بیٹھو ڈُھونڈ کر ہی لیں گے دم
تم نے دِل نِچوڑا ہے، ہم تو خُوں بہا لیں گے
ہم بھی کم نہیں تُم سے، پیار کو سمجھتے ہیں
تُم نے یاد پالی ہے، ہم بھی درد پالیں گے
قافلے تھے عُجلت میں ہم کو روتا چھوڑ آئے
دِل میں عزم باقی ہے، ایک دِن تو جا لیں گے
زحمتِ سماعت پِھر اِتنے شاعروں کے بعد
شعر واجبی سے ہیں، پڑھ کے اپنی جا لیں گے
جِتنی داد مِل جائے جان لو غنِیمت ہے
لوگ کیا تُمہیں اپنے سر پہ ہی اُٹھا لیں گے؟
جو مِلا مُقدّر کا، وہ تو نام کا ہی تھا
دوستو! سِتارا اب ہم تو دُوسرا لیں گے
دِل تُمہارا پہلے ہی، ہے ہمارے قبضے میں
اب تُمہیں تُمہی سے ہم ایک دِن چُرا لیں گے
ہم اندھیروں میں حسرتؔ گُم رہے ہیں اِک مُدّت
وُہ جو آنکھ بھر دیکھیں راستہ اُجالیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






