مٰیں اور میرا آینہ۔۔۔۔
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, Gujaratآج میرا آینہ بھی مجھ سے اُلجھ بیٹھا نہ سنواراکرو خودکو میرےسامنے
ٹوٹ گیا اگر نفیس یادوں کے سوا تیرے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں
کہا عادت ہےکھڑا ہو کےتیرے سامنے آنکھوں میں چہرا یار دیکھنےکی
ورنہ یقیں جانو صاحب اک مدت سے میں نے خود کو سنوارا ہی نہیں
آہ ہزار بار میرے سامنےمیں تم کو دیکھوں تو مجھ کو دیکھےکوئی گِلا نہیں
ہو کہ کھڑا تو روئے میر ے سامنے یہ بات مجھ کو گواراہ نہیں
ہاں اب تو ہی بتا یہ شہر اعجنبی ، یہاں لوگ اعجنبی اور میں تنہا تنہا
نہ یار دکھتا ہے نہ گھر بار دکھتا سوا رونے کے میرا گوزارہ بھی نہیں
تم چھوڑ کیوں نہیں دیتے اُسے کر لو سمجھوتا اب حالات کے ساتھ
بستی ہے جہاں میں بہت سی دنیا کیا ملتا کوئی اور تمیں دوباراہ نہیں
کہا سی لو ہونٹوں کو اپنےاب نہ کہنا اُس کی ذات پہ کوئی اور لفظ مجھے
کرےکوئی اُس سے جُدا ہونے کی بات ، مجسف، یہ مجھ کو گواراہ نہیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






