مٹی
Poet: Fatima Ibraheem By: Fatima Ibraheem, Lahoreمیں مٹی ہوں
مجھے مٹی میں رہنے دو
میرے اندر بہت سی زندہ جانیں بلبلاتی ہیں
یونہی تو کڑوے پانی کی یہ سب ندیاں نہیں بہتیں
مجھے شاداب ہونے دو
وفا کی کھاد ڈالو
محبت کا پانی بھی دو
کبھی کبھی مجھ پر چاہت کی بارش بھی ہو
مجھے آزاد رہنے دو
نکلتی اور بڑھتی ننھی منھی کونپلوں کو یوں نہ نوچو
میں جو کچھ بھی اگاتی ہوں
اندھیروں سے اگاتی ہوں
اندھیروں سے یہ سارے رنگ خوشبو اور شادابی
یونہی نہیں بنتی
حقیقت وہ جو مجھ میں ہے
تمہاری سوچ میں کب ہے
میں مٹی ہوں
میں مٹی ہوں
میں خوشبو ہوں
میں رنگوں سے بھری دنیا
میں شادابی
کڑی دھوپیں جب آگ بن جائیں
تو ٹھنڈا ٹھنڈا سایہ ہوں
تھکی بیزار سب جانیں
مجھ ہی پہ آرام کرتی ہیں
زمانے بھر کی سب زربیں جب مجھ پہ پڑتی ہیں
میں دبتی ہوں
میرے اندر بہت سی زندہ جانیں بلبلاتی ہیں
میری زرخیزیوں کو یوں نہ بیچو
مجھے وحشت نہ بننے دو
مجھے یوں آزماؤ نہ
میں مٹی ہوں
مجھے مٹی میں رہنے دو
مجھے مٹی ہی رہنے دو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







