مکرتا چلا گیا
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aوہ کر کے وفا کا وعدہ مکرتا چلا گیا
اک شخص میرے دل سے اترتا چلا گیا
بدلی ہے رت ایسی کہ پتھر کا وہ صنم
پتوں کی طرح ہواؤں میں بکھرتا چلا گیا
گرا کے وہ سب دیواریں میرے مکان کی
بنا کے رستہ اک نیا گزرتا چلا گیا
ترک وفا کر کے وہ کھویا ہے اس طرح
کہ اپنے ہی راستے سے بھٹکتا چلا گیا
اپنایا تھا ہم نے ان کو اپنے خیالوں میں
دم میری سادگی کا وہ بھرتا چلا گیا
لاؤں کہاں سے ڈھونڈ کر اس بیوفا کو میں
سمندر میں جو دریاؤں کی طرح سمٹتا چلا گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







