مگر آنکھیں ہیں جو سب کو بتاتی ہے
Poet: Zahid By: Zahid Hussain, Mardanدرختوں پر جو پنچھی سر میں گاتی ہے
ہمیشہ آپ کی یہ یاد لاتی ہے
میں کھڑکی سے اسے دیکھوں درختوں پر
نظر کے سامنے پھر اک تیری تصویر آتی ہے
دیواروں پر تیرا چہرہ، کتابوں میں بھی تیرا عکس
جدھر جاؤں ہر اک در سے تیری آواز آتی ہے
ہمیں کیا ہم اسے چپ چاپ سہتے ہیں
مگر آنکھیں ہیں جو سب کو بتاتی ہیں
اے زاہد سوچ لو اک بار ان آنکھوں کے بارے میں
تیرے دل کی حقیقت سامنے ہر بار لاتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







