مہتاب کا جلوہ
Poet: UA By: UA, Lahoreمیرے دل کے سونے سونے آنگن میں کب اترے گا
چاند گگن پہ رہتا ہے من آنگن میں کب اترے گا
ہر پل تیرا رستہ دیکھیں میری درپن آنکھیں
تیرا روپ سہانا درپن آنگن میں کب اترے گا
جس کی خاطر رات کی رانی آنگن میں مہکائی
خوشبو کا سوداگر بھینے آنگن میں کب اترے گا
تاروں کی ہمراہی میں اے چاند تمہارے کیا کہنے
نور کا ہالہ اس اندھیرے آنگن میں کب اترے گا
میرے دل کی نگری بھی روشن روشن ہو جائے گی
اس مہتاب کا جلوہ دل کے آنگن میں کب اترے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






