مہنگا پڑتا ہے اصولوں سے بغاوت کرنا
Poet: SYED WAQAS KASHI By: SYED WAQAS KASHI, RAWALPINDIمہنگا پڑتا ہے اصولوں سے بغاوت کرنا
کچھہ سمجھہ کر ہی میری جان محبت کرنا
ہر کسی کو نہیں چاہت کے خزانے ملتے
ہر کسی کو نہیں آتا عداوت کرنا
ٹوٹ جائیں تو نہیں نیند کی حاجت رہتی
اپنے کانچ سے خوابوں کی حفاظت کرنا
جانے ہم سنگ نشینوں کو سیکھایا کس نے
آنکھوں کے پوشیدہ جواہر کی سخاوت کرنا
میں نہیں چاہتا کہ کبھی تیرا بھرم ٹوٹے
مت وفا کی تم کسی اور سے حاجت کرنا
اک شرط ہے گر توڑنا چاہو ناطہ
مت میری جان میرے شہر سے حجرت کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






