میرا دل اک حسرتوں کا مزار بن گیا
Poet: pervaiz iqbal rana By: rana pervaiz iqbal, gojraمیرا دل اک حسرتوں کا مزار بن گیا
رستا ھوا ناسور تیرا پیار بن گیا
جس کو تھا میں ے بڑی محنت سے پرویا
افسوس غیر کے گلے کا وہ ھار بن گیا
دکھ میں بھی ساتہ دینے کی کھائ تھی قسم اس نے
پر سکھ کے لئے غیر کا دلدار بن گیا
پہلے تو اس مصور کی کچہ بھی نہ تھی حقیقت
تیری تصویر جو بنا دی تو شاھکار بن گیا
وصل میں جب رہ گیا لمحوں کا فاصلہ
تو زمانہ درمیاں میں دیوار بن گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






