میرا نام گُوگل پر لکھ کے سرچ کِیجے گا
Poet: رشید حسرتؔ By: Raheel, Quettaکچھ نہیں تعلّق پر، میرا نام گُوگل پر لکھ کے سرچ کِیجے گا
شعر ہیں مِرے پِھیکے پِھر بھی ہے توقع سِی
کُھل کے داد دِیجئے گا
بات کیا قبا کی ہو، اے مِرے رفُوگر دیکھ، دل بھی اب دریدہ ہے
کام کر توجہ سے، چھید نا رہے باقی سارے چاک سِیجے گا
چاہتے ہو گر یارو لُطف ماورا آئے، آبِ آتشیں سے، تو
اشک مُ الخبائث میں اے مِرے رفیقو بس اب ملا کے پِِیجے گا
آپ ہیں دُکھی تو ہوں، مُجھ سے کیا بھلا مطلب آپ کو پتہ تو ہے
آپ کے دُکھوں پہ ہی مُجھ سے پتھر دِل کا دِل کِس لیئے پسِیجے گا؟
ڈوبنے کو ہے لوگو میرے پیار کی ناؤ، بوجھ کیسے ہلکا ہو
قرض ہے محبت کا، اور جس کا جتنا ہے آ کے مجھ سے لیجئے گا
آنکھ بھی دِکھائیں گے، دھونس دھمکی بھی دیں گے کیونکہ یہ کمینے ہیں
گھاگ ہیں سیاسی لوگ، اے مِرے قلمکارو اِن سے مٹ دبِیجے گا
بے رِدا کیا اِس کو، اُس کا گھر جلا ڈالا کون آپ سے پُوچھے
ان غریب لوگوں کا اے رشیدؔ ان داتا آپ ہی کہِیجے گا۔
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






