میری آنکھوں سے آنسو
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamمیری آنکھوں سے گرآنسو برستےہیں توبرسنےدو
تمہیں کیا گریہ ملنے کو ترستےہیں توترسنےدو
میرےدل سےتمہیں بیر کیوں ہےیہ توبتلا دو
تمہیں کیا گردل کےزخم رستےہیں تورسنےدو
علاج زخم دل تم کو ہی کرنا ہے چلے آؤ
ستم کےتیرگر ہم پر برستے ہیں توبرسنےدو
ہمارےحوصلے دیکھواسیری میں بھی ہنستےہیں
بچھاؤجال تم اپنےجوہم پھنستےہیں توپھنسنےدو
وفاشیوہ ہمارا ہےوفا ہم کرتے رہتے ہیں جاناں
ہمارےحال پرلوگ گرہنستےہیں توہنسنےدو
محبت کی عدالت میں ہماری پیشی کیاہوگی
ہمارے نام کےپرچےگرکٹتے ہیں تو کٹنےدو
تم کو ہی چاہا ہے فقط تم کو ہی چاہیں گے
جولوگ ہماری محبت سےجلتےہیں تو جلنےدو
تیری فرقت نے دیوانہ بناڈالا ہےتیرے اصغر کو
یہ دن ناگ بن بن کرڈستےہیں تو ڈسنےدو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






