میری آواز
Poet: Kunwar Daniyal Moin By: Kunwar Daniyal Moin, Karachiبن جا ئیں اب دھڑکنیں آوازمری
کہ سن پائے تو یہ کتنا شور مچاتی ہیں
تیر ی صفتوں کا چراغ لئے یہ دنیا کو
تیری تعریفوں کی روشنی دیکھا تی ہیں
یقیں نہیں آئے گا تجھ کو بھی کبھی کہ
سُکوں کے یہ پل بھر نا چین پاتی ہیں
کروٹوں میں گزرتی ہیں راتیں اسکی
نااُداسی صبح کی کِرنوں میں جاتی ہیں
نا سُنتی ہیں کسی کی نا کچھ یہ سمجھتی ہیں
بس خُدا سے تیر ی ہی چاہت مانگتی ہیں
نابتاتی یہ افسانہ کچھ اپنا کسی کو پردیکھ
دیوانہ پن کنورؔ ہر کسی کویہ رُلاتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






