میری بیماری کی وجہ میری جان ہے صبا
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTمیری بیماری کی وجہ میری جان ہے صبا
میرے مرض کی دوا میری جان ہے صبا
ملے اگر خدا تو پوچھوں میں اس سے
کیوں مجھ سے جدا میری جان ہے صبا
میں کیسے رہوں زندہ بنا اس کے لوگو
میری دھڑ کنوں کا سلسلہ میری جان ہے صبا
مجھے پیار ہے اس سے زندگی سے بڑھ کر
ایسے ہی مجھ پر فدا میری جان ہے صبا
اک پل میں بکھر گیا دو دلوں کا شیرازہ
اگرچہ کچھ نہ رہا میری جان ہے صبا
میں اس کی خوشبو سے معطر ہوں روح تک
ہائے عجب نشہ ‘ مزہ میری جان ہے صبا
میرا ہاتھ کی لکیروں پر یقیں نہیں امتیاز
میری قسمت کا ستارہ میری جان ہے صبا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






