میری تشنگی مقدم رہے تو اچھا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری تشنگی مقدم رہے تو اچھا ہے
اس کی یاد پھر نہ آئے تو اچھا ہے
بطلان کے منزل ہر کسی نے دکھائی
کوئی ایک ہمقدم رہے تو اچھا ہے
میری ابتدا سے حافظہ جس کا ہی ہے
وہی ابکہ انتم رہے تو اچھا ہے
پتجھڑ سے ہی ہم نے بہار کو بلایا تھا
متوسط یہ موسم رہے تو اچھا ہے
میں نفیس ہوں یا مرُوج دوست
لیکن الزام ہم پہ رہے تو اچھا ہے
اس کے آنچل پہ پہلے کیا پھول کم تھے
کہتا ہے ایک اور انجم آئے تو اچھا ہے
اِس عمر میں بدگمان ہوئے تو سوچا کہ
نہیں اب کوئی جنم آئے تو اچھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






