میری تقدیر کی ہر عروضی میں جان گیا تھا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیری تقدیر کی ہر عروضی میں جان گیا تھا
اپنے حال لیئے کیا ضروری میں جان گیا تھا
مزاج چہرے کے فسانے آئینہ دیکھ لیتا ہے
اُس مرطوب نین کی مخموری میں جان گیا تھا
جو جریدے بارگاہوں میں اُداس بیٹھے ہیں
انہوں کی بھی علالت حضوری میں جان گیا تھا
کہو تو اور بھید بھی سر شام آگاہ کردوں
کہ تیرے رُخ کی وہ سَرُوَری میں جان گیا تھا
پوُچھتے ہیں لوگ کہ تیری آشنائی کا کیا ہوا
رہہ گئی کہانی ادھوری کہ میں جان گیا تھا
اُس عداوت کو میں نے رہا کردیا سنتوشؔ
اور میری کیا تھی مجبوری میں جان گیا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






