میری حقیقت میرا جنوں
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburgچلوں تو چلتے ہی چلے جاؤں میں
رکوں تو صدیاں یونہی ایک جگہ بتا دوں میں
میری ذات کو لاحق ہیں خطرات خود مجھ ہی سے
دشمنی میں خود کی حد سے بڑھ جاؤں میں
اک تمنا لاحاصل سی اک آرزو بے نام سی
جلا رہی ہے تن من ۔۔۔ اب خاک میں ملجاؤں میں
جلا دوں سب کچھ جو کچھ میرا ہے یہاں پر
پھر خود کو جلتا دیکھ کر سکوں پاؤں میں
خواب سارے ہوا ہوئے اور خوشگمانی بھی آپ موت مرگئی
تلخ حقیقت زیست کی کچھ اسطرح آشکار کرجاؤں میں
خود کے ہاتھوں رسوائیاں مول لی ہیں اس طرح کہ
پاک دامن ہوکر بھی جہاں میں حیاء باختہ کہلاؤں میں
لکھوں تو اب کیا لکھوں میں کوئی فسانہ یا کوئی شعر
کورے کاغظ پر صرف کالی سیاہی ہی اب بھکراؤں میں
یہی میں ہوں یہی میرا فسانہ یہی حقیقت ِ زیست میری
تم نے جو پڑھا نہیں وہی میرا انجام جہاں میں کرجاؤں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






