میری خاموشیاں
Poet: Shakira Nandini By: Shakira Nandini, Oportoمیری خاموشیاں، میری صدائیں بن گئیں
میری نگاہیں ہر پل یہ احساس دلائیں
کہ میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں
میری دھڑکن، دل کی روانی بن گئی
میری پلکیں ہر پل جھُک کر یہ بتائیں
کہ میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں
میرے الفاظوں کی لکیریں، میری کہانی بن گئی
میری نگاہیں جا کر یہ دکھائیں
کہ میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں
زندگی میری جان کی، عبادت بن گئی
میری سانسیں رُک رُک کر یہ سمجھائیں
کہ میں تجھ کو کتنا چاہتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






