میری دنیا الگ ہے اب
Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreجو مجھ سے پوچھتے ہو تم
کہاں مصروف رہتا ہوں؟
نہیں کوئی رابطہ رکھتا
نہ تم کو وقت دیتا ہوں
ہاں بالکل سچ ہے یہ تو
گلہ تم جائز کرتے ہو
بہت بدل گیا ہوں میں
میری دنیا الگ ہے اب
تمھیں تشویش تو ہوگی؟
کہ ایسی کیا تبدیلی ہے؟
سنو تم کو بتانا ہے
کسی سے عشق کرتا ہوں
کہ اب میں آفس سے آکر
اسی کو وقت دیتا ہوں
میری مصروفیت ہے وہ
تمھیں تشویش تو ہوگی؟
کہ آخر عشق ہے کس سے؟
چلو تم کو بتاتا ہوں
ہے مجھ کو عشق ان دنوں
بہت ”ابرک“ کے شعروں سے
میں پہروں بیٹھ کر تنہا
انہی کو پڑھتا رہتا ہوں
کبھی فرصت ملے تم کو
کسی شب چلے آنا
میں تم کو بھی سناﺅں گا
الگ دنیاگھماﺅں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






