میری سوئی ہوئی قسمت
Poet: UA By: UA, Lahoreمیری سوئی ہوئی قسمت کو وہ آ کر جگاتا ہے
میرے خاموش جیون میں نیا آہنگ سجاتا ہے
میرے چہرے پہ اس کی نگاہیں ٹھہر جاتی ہیں
میری آنکھوں کا پانی موتی بن کر جگمگاتا ہے
آنکھوں سے ہو کر جو میرے دل میں اترتا ہے
شب تنہائی میں آ کر وہ چہرہ مسکراتا ہے
اس کوچے سے آنے والی ہوا چھو کر گزرتی ہے
تو اس وجود کا ہر انگ نئی ترنگ پاتا ہے
میرے حصار سے عظمٰی مجھے وہ کھینچ لاتا ہے
میری نیندوں میں آ کر کے نئی دنیا دکھاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







