میری شاعری میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamمیری شاعری میں کوہئ ڈکشن نہیں ہے
اسی لیےاشعار میں فریکشن نہیں ہے
جب دو دل ملتے ہیں تو کیا ہوتا ہے
کیا بتاؤں میرے پاس اتنی انفارمیشن نہیں ہے
زندگی میں کئی شوق پالے ہیں میں نے
مگر شاعری جیسی کسی میں آڈکشن نہیں ہے
جی چاہتا ہے سبھی دشمنوں کو کھری کھری سناؤں
مگراس بات کی مجھے پرمیشن نہیں ہے
دل پہ ہاتھ رکھ کہ سچ بول رہا ہوں
میری ایک بھی بات فکشن نہیں ہے
اس معاشرے کو سدھارنا میرا مقصد ہے
بگڑے ہوئے کو بگاڑنا اصغر کا مشن نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






