میری غیروں سے آشنائی کی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاساری دنیا میں اب دہائی کی
میری غیروں سے آشنائی کی
جس کو پڑھتے ہوئے وہ روتا ہے
ایسی تحریر کیوں لگائی کی
مجھ کو اپنا نہیں سراغ ملا
اس کی غیروں تلک رسائی کی
جب بھی دیکھا ہے اس کو جی بھر کر
آنکھ اس نے بھی کب چرائی کی
میرے مالک یہ ماجرہ کیا ہے
ساری دنیا میں کیوں دہائی کی
اس کے اپنے ہی موج میلے ہیں
میری دنیا میں جگ ہنسائی کی
ایسا جادو وہ کر گیا مجھ پر
یاد آنکھوں میں جگمگائی کی
اس کی یادوں کے ساتھ گھر وشمہ
زیست میری بھی لوٹ آئی کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






