میری محبت ہو تم
Poet: By: Noor mudassir bukhari, Layyahمیری محبت ہوتم سزا نہیں ہو
تم ایک بار کہ دو خفا تم نہیں ہو
تمہارے خیال میری راتوں کا ہمسفر ہے
رات جگوں سے پوچهوں تم تنہا نہیں ہو
تمهارے بعد میں کتنا بے آسرا ہوا ہو
تم اپنے دل سے پوچهوں کیا تم بے آسرانہیں ہو
ہوتی تهی میری بے رخی،پے میری سے تم بهی روٹهتے ہو
اگر میں لاپرواہ ہو کیا تم بے پرواه نہیں ہو
مدثر،میں مانتا ہو خطائیں میری بےحد بے شمار ہوگی
فرشتہ میں بهی نہیں خدا تم بهی نہیں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






