میری نظریں
Poet: Nasir Ali By: Nasir Ali, Islamabadڈھونڈتی رہتی ہیں تجھے ہر وقت میری نظریں
تیرے لیئے ہی لگتا ہے کہ بنی ہیں میری نظریں
تو تو کہہ کر چلا گیا کہ پیار نہیں ہے مجھ سے
پھر کیوں دیکھنا چاہتی ہیں تجھے اب میری نظریں
تیری راہوں میں آنا بھی چھوڑ دیا ہے میں نے
پر نہ جانے کیوں تیری راہ تک رہی ہیں میری نظریں
آج مدت کے بعد کیا دیکھ لیا میں نے تم کو
ایسا لگتا ہے کہ کب سے اداس تھیں میری نظریں
میری نظروں کی نہ نظر لگ جائے تم کو جانم
اسی لیئے تو چھپالیں ہیں تم سے میری نظریں
دل کو سمجھا لیا ہے ناصر نے کہ ممکن نہیں اب یہ
دل تو مان گیا پر نہ مانیں میری نظریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






