میری وفاِ زیست کی خاموش گزر گاہیں
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratمیری وفاِ زیست کی خاموش گزر گاہیں
اس دل میں لیے پھر رہی ہو ں اُ س کی یادیں
اک با ر اُس کا دیکھنا کہ دل میں اُتر جانا
کم نہ تھیں وہ قیامت خیز آنکھیں
میں ٹوٹ کے سمٹی تھی اُس جنت سی ذات میں
وہ شام کا ڈھلنا اور اُس کی پناہ گاہیں
اُس کی ذات کا ہر شور یو ں ٹھہرہ میر ے اندر
وہ چُپ بھی رہتا ہے تو سُن لیتی ہوں اُس کی آہیں
وہ یو ں بیٹھ جاتا ہے پلکو ں کے دریچوں میں
کہ میں بھول نہیں پاتی اُس کی جلوہ گاہیں
اب تو یو ں عقیدہ سا ہے اُس کی ذات سے
میں نبھا جاؤں گی لحد تک اپنی وفائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






