میری چاہت اور محبت ہو تم
Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attockکیوں اک دیا سا بجھا ہے تجھ میں
پل پل کیوں بکھرنا ہے تجھے
عجب شہ ہے تیرے وصل کی تمنا بھی
سچ کہتی ہوں تجھ سے
میری جان ہو تم تم کو بتاؤں کیسے
ایک حقیقت ہے یہ بھی
پھولوں کی خوشنمائی کی خوشبو کی
مگر یہ بھی سچ ہے اک
تم پیاری ہو سب سے
اک پل کیلیے سوچوں تو ذرا
میری آغوش سکوں دے گی تمہیں
دنیا کے خیالات سے بہت دور لے جائے گی
ان سانسوں میں بسا لونگی تجھ کو
آزما کر تو دیکھو
ان لمحوں کو مجھے دے دو
جو ستاتے ہیں تمہیں
ان گرتے ہوئے آنسوں کو میرے
دامن میں سمانے دو
میرے ہونٹوں کی ہنسی اپنے لبوں
پر سجا کر دیکھو
کتنی اپنی ملوں گی
چاہو تو کھلی آنکھوں میں خوابوں کی مانند
بس جاؤ یا پھر
سپنا بن کر
نیند میں چلی جاؤ
ہر لمحہ تمہارا منتظر ہو گا
وہ میری چاہت و محبت کا لمحہ ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






