میری کر جانا تم
Poet: SAQIB NISAR By: Saqib Nisar , Muzaffarabadakجب مجھ سے ملنے آنا تم
کچھ خوشیاں ساتھ لانا تم
کچھ سپنے نیرے سچ کرنا
کچھ اپنے خواب سجانا تم
کچھ لوگ غلط بھی ہوتے ھیں
انہیں ذندگی میں مت لانا تم
آنسوں،ڈر یور ہجر کا درد
نہ ایسے گیت سنانا تم
میں مر بھی جاؤں اگر جاناں
وعدے یہ سارے نبھانا تم
میں جھوٹ اگر کوئی بولوں
مجھے چھوڑ کے بیشک جانا تم
کچھ ایسے گیت لکھوں گا میں
جینے گا کر امر کر جانا تم
میں ساتھ رہوں گا تا دم مرگ
بس خود کو میری کر جانا تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






