میری ہر بات میں تو، میرا ترانہ تو ہے
Poet: صائمہ نواز درانی By: Saima Nawaz Durrani, Islamabad میری ہر بات میں تو، میرا ترانہ تو ہے
یاد ہر پل ہے مجھے،میرا زمانہ تو ہے
ہیں تیرے پاس بھی جینے کے بہانے کتنے
میرے جینے کا فقط ایک بہانہ تو ہے
دل کے ویرانے میں لے آئے جو یک لخت بہار
ہاں مہکتا ہوا موسم وہ سہانا تو ہے
تلخیاں سب ہی حقیقت کی بھلا دے پل میں
ایسا اک نغمہء دل کش وہ فسانہ تو ہے
خود کو میں کیوں بھلا بیکس کہوں مفلس سمجھوں
میری دولت ہے تو ہی، میرا خزانہ تو ہے
زرد پھولوں کی طرف دیکھ کے مسکائی جو کلی
ہنس کے بولی یہ صبا، اگلا نشانہ تو ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






