میرے اشعار مری چال بدل دیتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیا.میرے شانوں پہ مری شال بدل دیتے ہیں
میرے اشعار مری چال بدل دیتے ہیں
جن کو خطرہ ہو ہواؤں سے بیگانے پن کا
ایسے پنچھی بھی کبھی ڈال بدل دیتے ہیں
جب کبھی سوچ کے کاٹے ہیں جہاں بال اور پر
میرے صیّاد وہاں جال بدل دیتے ہوں
میں تو بچتی ہوں سدا ایسے خداؤں سے جو
کبھی ماضی تو کبھی حال بدل دیتے ہیں
ہم جو جھکتے ہیں کبھی لینے وفائیں اُن سے
وہ محبت کا وہاں مال بدل دیتے ہیں
اُن کے ہاتھوں میں ہے یہ تیرا مقدّر وشمہ
اپنے جینے کو جو ہر چال بدل دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






