میرے اور تمہارے لیے دعا
Poet: Noor By: Noor, oman muscatمیں نے خدا سے اک ادنیٰ سی دعا مانگی ہے
تیری زندگی کے بدلے اپنے لیے موت مانگی ہے
مبارک ہو تیرے لیے تیری زندگی کا ہر سفر
اپنے لیے تیرے قدموں کی خاک مانگی ہے
میرے حصے کی خوشیاں بھی تم کو مل جائیں
اپنے لیے تیرے حصے کی دھوپ مانگی ہے
شہرت پاؤ تم آسمان کی بلندیوں تک
اپنے لیے تیرے حصے کی نفرت مانگی ہے
تیرا وجود دنیا کے لیے بے مثال ہو جائے
اپنے لیے تیرے دیدار کی اک جھلک مانگی ہے
رونقیں نصیب ہوں تم کو دنیا بھر کی
اپنے لیے تیری یاد میں تنہائی مانگی ہے
قدم نہ ڈگمگائیں تیرے کتنے ہی نازک حالات ہوں
اپنے لیے بس تیری سلامتی کی دعا مانگی ہے
دنیا بھر کی ساری وفائیں تیرا مقدر بن جائیں
اپنے لیے تیرے حصے کی بے وفائی مانگی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






