میرے بارے میں سوچتا نہیں ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمیرے بارے میں سوچتا نہیں ہے
کوئی دیتا تو آسرا نہیں ہے
لوٹ سب کچھ گیا مرا منعم
پاس میرے تو کچھ بچا نہیں ہے
آیا موسم نہیں بہار کا پھر
پھول گلشن میں اب کھلا نہیں ہے
کھیل دنیا رہی ہے کھیل عجیب
کوئی بچنے کا راستہ نہیں ہے
دوست احباب ساتھ ہیں میرے
میرا ذاتی یہ مسئلہ نہیں ہے
کرتا وعدے ہے جھوٹے روز مجھے
میں کہوں کیسے بے وفا نہیں ہے
میں پریشان ہوں بہت شہزاد
کوئی دیتا تو حوصلہ نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






