میرے لفظوں کو چاھت کی دلفریب عزل بنا جا.
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haruna abadآ میرے پاس مجھ میں چپکے سے روح بن کر سما ج
محبت کے نام پر بے جان پتلا ہوں مجھ میں زندگی کی لہر بہا ج
ساگر کے پاس آتے آتے ساحل بھی جی اٹھتے ہہیں
میں بہت پیاسا ساحل ہوں مجھے محبت کے سمندر سے ملا ج
نہیں ہے میرے لفظوں میں اتنی طاقت بتا سکوں تجھے اپنی چاہت
میرے لفظوں کو چاھت کی دلفریب عزل بنا ج
اک عرصے سے نہیں دیکھی میرے گلشن نے بہار کی اد
میرے اجڑے گلستاں کو اپنی مسکراہٹ کی جھلک دکھلا ج
ہوتی ہے اک عجیب سی حالت جب دھڑکنوں کی لہر بدل جائے
بے سود دھڑکتے دل کو اپنے دل کا پتہ بتا ج
خوبصورت سماع ہے مچلتی ہوا ہے گل نما دن ہے
شام کا اک حسیں پل زندگی کی کتاب میں نصاب کروا ج
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






