میرے محبوب
Poet: دانش ملک By: Sabir malik, Jhangمرا من اکتا گیا تھا یا تھی لذتِ غریبی
مرا دل کہہ رہا تھا اب آرزو نہیں ہے
یہ جودھتکار دیا گیاہوں بھلا کیوں ہو اس پہ شکوہ
یہاں سب کے والی وارث مرا کوئی نہیں ہے
مرا دل ہے آبدیدہ پھر بھی ہے چپ سادھی
وہ جو اک آہ کو سمجھ لے ایسا سامع نہیں ہے
ہیں بال وپر تو خوب سبھی دیکھتے ہیں لیکن
کیا گزر رہی اہلِ قفس پہ کوئی دیکھتا نہیں ہے
ایسے میں سنبھالوں خود کو یا حوصلہ دوں تم کو
مرے پاس جانِ جاں کوئی چارہ نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






