میرے نقش قدم بھی دیکھ (مکمل)
Poet: Mohammad Sadiq Mushwani By: Mohammad Sadiq Mushwani, Quettaمیرے نقش قدم بھی دیکھ ہوا لے گئی آخر
حسرت دل امید آہ قضاہ لے گئی آخر
یہی چرچے ہیں بڑے طیش میں رہتے ہیں آج کل
تتلی کوئی اس لب کی صدا لے گئی آخر
بجھتی ہوئی آنکھیں اک ٹوٹا ہوا سا دل
کیا اس کے سوا موت بتا لے گئی آخر
آندھی وہ تند تیز تھی شاید کہ منتظر
بستی کا ایک گھر بھی اڑا لے گئی آخر
صادق تقدیر مجھ پہ مہربانی کیا کرتی
پت جڑ خزاں بہار کیا کیا لے گئی آخر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






